منگل 27 اکتوبر 2026 - 18:32
کیا رہبر کی شہادت سے ایک انقلاب کو ختم کیا جا سکتا ہے؟

قیادتِ بیدار کا تسلسلِ امامت اور استعمار کی شکست

کیا رہبر کی شہادت سے ایک انقلاب کو ختم کیا جا سکتا ہے؟

تحریر: مولانا سید صفدر حسین زیدی مدیر جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام صدر امام بارگاہ جونپور 

حوزہ/ جامعہ امام جعفر صادقؑ، جونپور کے مدیر اور صدر امام بارگاہ، حجۃ الاسلام و المسلمین سید صفدر حسین زیدی نے اپنے مضمون میں قیادت کے تسلسل کو مکتبِ اہل بیتؑ کی تاریخی بصیرت اور استقامت کی علامت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب اس بات کا مظہر ہے کہ شخصیات کی شہادت سے نظریات اور تحریکوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ حق کی قیادت کا تسلسل دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخ کے ہر موڑ پر باطل نے یہ گھناؤنا خواب دیکھا ہے کہ حق کے علمبرداروں کو ختم کرکے اس کے نظریے کا چراغ بجھایا جا سکتا ہے۔ کربلا کے میدان میں جب امام حسین علیہ السلام اور آپ کے جانثار رفقا نے جامِ شہادت نوش کیا تو یزیدی طاقتوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب دینِ محمدی کی ڈور ان کے ہاتھ میں آگئی ہے اور وہ اسے جس سمت چاہیں، موڑ سکتے ہیں۔ لیکن حضرت امام سجاد علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مدبرانہ طرزِ عمل اور آہنی عزم نے دشمن کی اس سازش کو خاک میں ملا دیا۔

؎ بعدِ شبیر کے سجاد کا وہ طرزِ عمل

جیسے بدلا ہی نہیں ناؤ کا کھینے والا

یہ شعر محض ایک تاریخی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ سنتِ الٰہی کے اس روشن اصول کی ترجمانی بھی کرتا ہے جس کے تحت پرچمِ ہدایت کبھی سرنگوں نہیں ہوتا۔ رہنما بدلتے ہیں، افراد شہید ہوتے ہیں، لیکن مکتبِ حق کی سفینۂ نجات کا کھیون ہار، خدا کی تدبیر اور بصیرت کے سائے میں، ہمیشہ اسی طرح اپنا کردار ادا کرتا ہے کہ طوفانوں کا رخ موڑ دیتا ہے۔

مجلسِ خبرگان کا تاریخی فیصلہ اور بصیرتِ کاملہ

دورِ حاضر میں بھی استعمار اور اس کے تمام غلام حکمراں اسی پرانے فریب میں مبتلا تھے۔ شہید قائدِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای طاب ثراہ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ان کی شہادت کے بعد نظامِ ولایت کو کمزور کرنے کے لیے دشمنانِ اسلام نے طویل المدتی سازشیں بُن رکھی تھیں۔ وہ یہ گمان کر بیٹھے تھے کہ شاید اس بلند قامت اور مظلوموں کو سایہ فراہم کرنے والے درخت کے گرنے سے انقلاب کی جڑیں ہل جائیں گی۔

لیکن مجلسِ خبرگانِ رہبری نے ماضی کے تجربات سے روشنی حاصل کرتے ہوئے، حال کی نبض کو پہچانا اور مستقبل کے بارے میں گہری بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ رہبرِ شہید کے ہاتھوں لگائے گئے شجرِ سایہ دار کے انتخاب کے ذریعے ایسا بروقت اور انقلابی فیصلہ کیا گیا کہ دنیا ششدر رہ گئی۔ حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای حفظہ اللہ کا انتخاب اس بات کا واضح اعلان تھا کہ اس مکتب میں فکر و تدبر اور شجاعت کا چشمہ کبھی خشک نہیں ہوتا۔

استعمار کے فریب کا خاتمہ اور عصائے موسیٰ کا معجزہ!

اس انتخاب نے استعمار اور اس کے علاقائی و بین الاقوامی غلاموں کی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ دہائیوں کی محنت اور اربوں ڈالر خرچ کرکے وہ جس فریب کارانہ تسلسل کو قائم کرنا چاہتے تھے، وہ اس ایک فیصلے کی ضرب سے ریت کی دیوار کی طرح ڈھہ گیا۔

یہ منظر بالکل ایسا ہی تھا جیسے فرعون کے دربار میں ساحروں کے جھوٹے طلسم اور رسیوں سے بنائے گئے سانپوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا نے پل بھر میں نگل لیا تھا۔ بیدار مغزی اور ولایتِ فقیہ کے تسلسل نے باطل کے تمام فریب کو چکناچور کرکے رکھ دیا۔

وقت کے فراعین کا انجام اور ان کی پکار!

آج تاریخ خود کو دہراتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ غرورِ فرعون میں مبتلا وہ طاقتیں، جو کل تک دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچانے کا دعویٰ کرتی تھیں، آج اپنے ہی بنائے ہوئے دلدل میں غرق ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

عاجزی اور شکست

وہ طاقتیں جو کبھی دھمکیاں دیا کرتی تھیں، آج ڈوبتے ہوئے انسان کی طرح گڑگڑا کر مدد کی دہائی دے رہی ہیں۔

سنتِ الٰہی

یہ صورتِ حال اس اٹل حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ظلم کی عمر خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اسے ایک نہ ایک دن شکست سے دوچار ہونا ہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی یہ کہاوت آج کے حالات پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے کہ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ موجود ہوتا ہے، جو اس کے غرور کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ رہبری کا یہ نیا باب اس بات کا ثبوت ہے کہ نورِ خدا کو پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کرنے والے بالآخر خود اپنے ہی اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha